غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق فلسطینی ایوانِ صدر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یو این ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین انروا پر اسرائیلی پابندی کی مذمت کرتے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ انروا پر پابندی کی اجازت نہیں
دیں گے، نام نہاد پارلیمان کا ووٹ ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیل فاشسٹ ریاست بن چکا ہے۔
دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے
ذیلی ادارے انروا پر پابندی پر امریکا کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا گیا ہے!!
جبکہ برطانیہ نے بھی اسرائیلی پابندی کو غلط قرار دیا ہے!! گویا یہی دو ملک ہی نہیں ہیں جنہوں نے اسرائیل کو سب کچھ کرنے کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے!!
ذرائع کے مطابق کنیسٹ (صہیونی پارلیمان) کی جانب
سے اسرائیلی حکام اور ریلیف ایجنسی کے درمیان روابط پر پابندی لگائی گئی ہے۔
صہیونی کنیسٹ نے انروا سے تعلقات منقطع کرنے اور
اسے دہشت گرد تنظیم قرار دینے کی بھی منظوری دے دی تھی جبکہ اس سے قبل صہیونی ریاست
نے اقوامِ متحدہ کی ریلیف ایجنسی انروا پر پابندی لگا دی تھی اور کنیسٹ (صہیونی
پارلیمان) پابندی کا بل منظور کر لیا تھا۔ اس بل کے تحت، صہیونی حکام اور انروا کے
درمیان روابط پر پابندی لگا دی گئی اور اقوام متحدہ کے اس ذیلی ادارے کو دہشت گرد
تنظیم قرار دیا؛ انروا کے عملے کو حاصل استثنیٰ کو بھی ختم کر دیا جبکہ اس سے قبل
ایک اور بل میں انروا کی مقبوضہ سرزمین میں تمام سرگرمیوں پر پابندی لگا دی تھی۔
اس حوالے سے انروا کے چیف فلپ لازارینی کا [بے
بسی کے عالم میں] کہنا ہے کہ اسرائیلی پابندی فلسطینیوں کے مصائب کو مزید گہرا کرے
گی، خاص طور غزہ کے لوگوں کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ انروا کے خلاف اسرائیلی پارلیمان
کی ووٹنگ سے خطرناک مثال قائم ہوئی ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے
کہا ہے کہ غزہ میں ابھی اور مستقبل میں پائیدار انسانی امداد دستیاب رہے گی۔
ان کا کہنا ہے کہ انروا کے عملے کو اس کے خلاف
دہشت گرد سرگرمیوں پر جوابدہ ہونا چاہیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
110